متاثرہ بچوں کوبھی ویکسین دی جائے گی،لاک ڈاؤن میں توسیع کافیصلہ وزیراعلیٰ کریں گے
بنگلورو،31؍مئی(ایس او نیوز)ریاستی وزیربرائے صحت وبہبودی خاندان ڈاکٹرکے سدھاکرنے کہاکہ ریاست میں کوروناوائرس سے اگربچے متاثرہوتے ہیں توبچوں کوبھی کووِڈویکسین دی جائے گی۔
بروزاتواراخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہاکہ اب کووِڈویکسین کاتجربہ بچوں پرکیاجارہاہے،ویکسین تیارکرنے والی بہت ساری کمپنیاں کئی مقامات پربچوں کی ویکسین کاٹرائل ر ن کررہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ویکسین سازکمپنیوں کی جانب سے کئے جارہے ٹرائل رن ودیگرتجربات کودیکھتے ہوئے ہماری ریاست کے بچوں کوبھی کووِڈویکسین دینے کی تیاری کی جارہی ہے۔سب سے پہلے بڑی عمرکے لوگوں کوویکسین دی جائے گی،اس کے بعد عوام کے رابطہ میں آنے والے پیشہ ورافرادکوویکسین دی جائے گی،اس کے ساتھ ساتھ ریاست کے تمام باشندوں جہاں تک ممکن ہوسکے تمام افرادکوویکسین دی جائے گی۔ریاست کے باشندوں کوویکسین دئے جانے تک ماسک پہننالازمی ہوگا۔ ریاست میں لاک ڈاؤن میں توسیع سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ لاک ڈاؤ ن کی وجہ سے کیاکچھ فائدہ ہے یہ سب جانتے ہیں،لاک ڈاؤن سے پہلے ریاست میں پازیٹیو کی شرح 47فیصدتھی،گزشتہ 15دنوں کے دوران کووِڈکی مثبت شرح گھٹ کر14اور15فیصدتک ہوکررہ گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ دیگرریاستوں میں جہاں ہماری ریاست سے زیادہ پازیٹوکیس تھے وہاں اب مثبت شرح گھٹ کر8فیصدہوگئی ہے۔ سدھاکرنے کہاکہ ان تمام اُمورکوپیش نظررکھتے ہوئے ریاستی ٹیکنیکل اڈوائزری کمیٹی کے ساتھ تبالہ خیال کرنے کے بعدلاک ڈاؤن کے سلسلہ میں ریاستی وزیراعلیٰ حتمی فیصلہ سنائیں گے۔بلیک فنگس کے علاج کے لیے درکاردوائیوں کی قلت کے بارے میں سدھاکرنے کہاکہ مرکزی وزیرسداننداگوڑاریاست کوبلیک فنگس کے انجکشن فراہم کرنے میں بہت جدوجہدکررہے ہیں،آٹھ سے زائد کمپنیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انجکشن فراہم کرنے کی تیاری کئے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ملک بھرمیں بلیک فنگس کے لیے درکارانجکشن کے 80ہزارسے زائد شیشیاں (ویلس)بازارمیں آئے ہوئے ہیں۔ہماری ریاست کے لیے بھی 8تا10ہزارویلس سپلائی کئے گئے ہیں۔ ہماری ریاست میں بلیک فنگس کے 1250معاملات سامنے آئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اموات کے سلسلہ میں اعدادوشماریکجاکرنے کے لیے متعلقہ افسروں کوہدایت دی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ کووِڈویکسین سرکاری اورپرائیویٹ اسپتا ل دونوں میں دئے جارہے ہیں،پرائیویٹ اسپتال میں ویکسین لگانے کی کوئی قیمت طے نہیں کی گئی ہے،جبکہ سرکاری اسپتالوں میں مفت ویکسین دی جارہی ہے۔کورونا کی تیسری لہرکس کومتاثرکرے گی اورکس کو نہیں؟یہ کہنے کی بجائے یہ کہوں گا کہ کووِڈکی دونوں ڈوزلینے تک وائرس کاسلسلہ جاری رہے گا۔
سدھاکرنے مزیدکہاکہ کووِڈویکسین کے سلسلہ میں اپوزیشن پارٹیاں غیرذمہ دارانہ اوربے بنیادافواہیں پھیلارہی ہیں۔ہندوستان میں اب تک 20کروڑافرادکوویکسین دی گئی ہے۔